آم کا تعارف، ذائقہ، پیداوار، استعمال، غذائی اجزاء، فوائد، علاج، تاریخی آئینہ، خواب کی تعبیر

آم

👈 نام:

لذت اور ذائقے سے بھرپور یہ میٹھا اور رسیلا پھل اپنی مٹھاس اور منفرد ذائقے کی وجہ سے پوری دنیا میں مقبول ہے۔ پاک و ہند میں اسے "آم" کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ انگریزی زبان میں اسے مینگو (mango) کہتے ہیں۔ جو دراصل تامل زبان سے لیا گیا ہے۔ تامل میں آم کو "مین گے" کہا جاتا ہے۔ فرانسیسی زبان میں اسے "مینگوی"، ڈچ زبان میں "منگا"، اطالوی زبان میں "مانگو"، فارسی میں "انبہ"، عربی میں "ابنج" کہتے ہیں۔ پنجابی زبان میں "امب" کہا جاتا ہے۔ آم کا سائنسی نام (Mangifera indica) ہے۔ آم کا درخت مئی سے اگست کے مہینے تک پھل دیتا ہے۔

 

👈 زیادہ پیداوار:

دنیا کا 80 فیصد آم پاکستان اور بھارت میں پیدا ہوتا ہے۔ شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر نے دربھنگہ کے علاقے میں آم کے ایک لاکھ درختوں پر مشتمل باغ لگوایا جس کا نام "لکھی باغ" (لاکھ) باغ رکھا گیا۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آم بادشاہوں کا پھل اور پھلوں کا بادشاہ ہے۔ پاکستان میں آم کی بے شمار قسمیں پائی جاتی ہیں۔ چاروں صوبوں میں آم کی کاشت کی جا رہی ہے لیکن آم کی پیداوار سب سے زیادہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں ہوتی ہے۔ پاکستانی آم مشرقی وسطی یورپ اور امریکہ کے کئی ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں آم کی جو اقسام زیادہ مشہور ہیں ان میں دسہری، لنگڑا، انور رٹول، چونسہ، سندھڑی، فجری وغیرہ خاص طور پر مشہور ہیں۔

[سب سے زیادہ آم انڈیا (بھارت) میں تقریباً سالانہ 16,337,400 ٹن پیدا ہوتا ہے۔]

 

👈 آم سے الرجی:

زرعی سائنس دانوں نے آم کی خوشبو کے بارے میں کہا ہے کہ یہ خوبانی، انناس اور آلو بخارے کی خوشبوؤں کا مرکب ہے۔ بعض نے اس کی ترشی کو لونگ کی خوشبو کا آمیزش قرار دیا ہے۔ یورپ کے بعض لوگ آم کی خوشبو کو تارپین کے تیل کی خوشبو سے مشابہت دیتے ہیں۔ لیکن جنہیں تارپین کے تیل کی خوشبو پسند ہے وہ آم کی خوشبو کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ کئی ممالک کے لوگوں کو آم کھانے سے الرجی ہے جس سے ان کے ہونٹوں پر خارش ہو جاتی ہے اور سرخ ہو جاتے ہیں۔ شوگر کے مریضوں کو ڈاکٹر آم کھانے سے منع کرتے ہیں۔

 

👈 ذائقہ:

کھٹا میٹھا، آم جتنا زیادہ میٹھا ہو گا اتنا ہی گرم ہو گا۔ جتنا زیادہ ترشی والا ہو گا اتنا ہی کم گرم ہو گا۔

 

👈 استعمال:

آم ایک ایسا پھل ہے جسے لوگ پاس کے پکنے کے موسم سے لے کر پکنے تک استعمال کرتے ہیں۔ اسے خواتین بلکہ لڑکیاں خاص طور پر اس کے کھٹ میٹھے ذائقے کی وجہ سے بہت پسند کرتی ہیں۔ عام گھروں میں آم کی ترش چٹنی تیار کی جاتی ہے۔ آم کا اچار، آم کا میٹھا اچار، آم کی میٹھی چٹنی اور امچور تیار کرتے ہیں۔ امچور کچے آم کے خشک شدہ باریک ٹکڑوں کو کہتے ہیں۔ ان کو ادویات تیار کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا سفوف اپھارہ دور کرنے کے کام آتا ہے۔ چاٹ بنانے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ املی کا نعم البدل ہے۔ آم سے جام، جیلی تیار کئے جاتے ہیں۔ آم کا مار ملیڈ، آم کا مربہ، آم کا سکوائش اور شربت بھی تیار ہوتا ہے۔ مینگو آئس کریم عام کھائی جاتی ہے۔ فروٹ چاٹ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ آم کے گودے کو ٹین کے ڈبوں میں پیک کر کے ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ اندرون ملک میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ آم کا گودا کیمیائی طور پر تیار کر کے بھی فروخت ہوتا ہے۔ یہ بھارت میں ملتا ہے۔ آم پیدا کرنے والے ممالک اسے دنیا بھر میں سپلائی کرتے ہیں۔ آم کا سلاد دوسرے پھلوں میں ملا کر کھاتے ہیں۔ اس کے ذائقہ سے بچوں کی ٹافیاں اور میٹھی گولیاں تیار کی جاتی ہیں۔ مینگو جوس گتے کے چھوٹے بڑے ڈبوں میں ڈال کر عام فروخت ہوتا ہے۔

 

👈 غذائی اجزاء:

100 گرام آم میں 81.4 فیصد آبی اجزاء، 41 ملی گرام وٹامن سی، 17.2 فیصد کاربوہائیڈریٹ، 13 ملی گرام فاسفورس، 9 ملی گرام کیلشیم، 0.2 ملی گرام فولاد (iron)، 0.7 فیصد لحمیات (proteins)، 0.2 فیصد چکنائی (lipids)، 0.5 فیصد معدنیات (minerals)، 300 حرارے موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وٹامن اے، وٹامن بی اور وٹامن سی بھی کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ اس میں پوٹاشیم بھی پایا جاتا ہے۔

 

👈 فوائد:

آم خون صاف کرتا ہے۔ کچی اور پکی حالت میں بے شمار بیماریوں کے علاج  میں استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ اس کی گٹھلی، پتے اور پھول (بور) سے بھی متعدد بیماریوں کے لئے دوائیں تیار کی جاتی ہیں۔ آم کے پتوں کی چائے پینے سے نزلہ، زکام، کمزوری دماغ اور ہچکی سے نجات ملتی ہے۔ دودھ اور بالائی کے ساتھ کھانے سے طاقت بڑھتی ہے اور صحت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ قبض دور ہوتی ہے۔ آم بدن کی پرورش، خاص طور پر بچوں کے بڑھنے کے لئے نہایت مفید پھل ہے۔ آم کھانے کے بعد چند جامن کھا لیں تو آم جلد ہضم ہو جاتا ہے۔ آم کے درخت کی چھال دستوں کو روکتی ہے اور خون کو بند کرتی ہے۔

 

👈 علاج:

⬅️ ہیضہ ہونے کی صورت میں آم کے پتوں کی ڈنڈیاں، 9 کالی مرچ پانی میں پیس کر گولیاں بنالیں اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے مریض کو پلائیں۔ ہیضہ کے دست اور قے بند ہو جاتے ہیں۔

⬅️ بال گرتے ہوں تو آم کے پتوں اور شاخوں کو پیس کر بالوں پر متواتر لگائیں۔

⬅️ جسم کا کوئی حصہ جل جائے اور چھالے پڑ جائیں تو آم کی پرانی گٹھلی کا تیل لگائیں۔

⬅️ دانت ہلتے ہوں اور درد بھی ہو تو آم کے پتے اور پھول پانی میں ہیں کلی کریں۔

⬅️ زخم سے خون بہتا ہو تو آم کی لکڑی اور پتوں کی راکھ چھڑکنے سے ہر زخم کا خون رک جاتا ہے۔

⬅️ سرعت انزال کی صورت میں کچا آم جس میں گٹھلی نہ پڑی ہو سکھا کر پیس لیں اور روزانہ 15 گرام چینی ملا کر کھائیں۔

⬅️ آتشک اور سوزاک کی بیماری میں آم کی چھال 10 گرام کو ایک پاؤ پانی میں رات بھر بھگو کر صبح کو صاف کر کے ایک ہفتہ تک پئیں۔

⬅️ خون کی کمی ہو گئی ہے اور چہرہ زرد رہتا ہو تو میٹھے آم کھا کر اوپر سے دودھ کی لسی پی لیں جب تک موسم رہے گا سلسلہ جاری رکھیں۔ اس سے جسم سے خون خوب بنے گا اور وزن بھی بڑھ جائے گا۔

⬅️ گرمی کی شکایت ہو تو کچا آم یعنی کیری کا شربت لو لگنے کی شکایت کے لئے بہت مفید ہوتا ہے۔ اس میں اگر تھوڑا سا بید مشک، گلاب یا کیوڑے کا عرق ملا لیں تو یہ اور بھی مفید ہو جاتا ہے۔ گھبراہٹ بھی دور ہو جاتی ہے۔ بھوک بھی کھل کر لگتی ہے۔ خون بھی صاف ہوتا ہے ۔

 

👈 آم تاریخی آئینے میں:

چار ہزار سال قبل آم کی دریافت بھارت کے صوبہ آسام میں ہوئی۔ پھر پرتگالی اسے افریقہ لے گئے۔ وہاں سے اسے برازیل میں متعارف کرایا گیا۔ 1700 سے 1800 کے درمیان اس کی کاشت میکسیکو، فلپائن، ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور امریکہ کی دو ریاستوں فلوریڈا اور ہوائی میں شروع کی گئی۔ پاکستان اور بھارت کے علاوہ آج کل آم تھائی لینڈ، جاوا، مصر اور کئی ممالک میں پایا جاتا ہے۔

 

👈 خواب کی تعبیر:

خواب میں آم دیکھنا فرزند پیدا ہونے اور خوشی نصیب ہونے کی علامت ہے۔ آم کھاتے دیکھنا روزگار میں ترقی اور غیب سے مدد ملنے کا امکان بتایا گیا ہے۔ پریشانی دور ہونے کا بھی اشارہ ہے۔ آم کا درخت دیکھنا مالی فوائد حاصل ہوں اور نعمت ہاتھ آنے کا بتایا گیا ہے۔ آم کا درخت سوکھا دیکھنا باعث پریشانی ہے تمام امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ آم گرتا دیکھنا بے روزگاری کی دلیل ہے۔ خواب میں آم کسی کو دینا، یعنی جس کو دے اس سے فیض حاصل ہو یا مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

 

👈 حوالہ:

⬅️ کتاب: پھلوں سے علاج

⬅️ مرتبہ: ولی محمد بھٹی

⬅️ صفحہ نمبر: 17 تا 22

MAhmadZoologist

Comments